عورت... قوم کی معمار
کسی بھی قوم کی ترقی، تہذیب اور مستقبل کی بنیاد اس کے گھروں میں رکھی جاتی ہے، اور ان گھروں کی تربیت و تعمیر میں عورت کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہیں کہ عورت صرف ایک خاندان کی فرد نہیں بلکہ پوری قوم کی معمار ہے۔
بانو قدسیہ کے افسانوی اور فکری ادب میں انسانی کردار، رشتوں کی نزاکت، گھر کے ماحول اور انسان کے باطن کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے ہاں بارہا یہ احساس ملتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے ظاہری مقام، دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے کردار، تربیت اور اندرونی انسان سے ہوتی ہے۔ یہی نقطۂ نظر عورت کے کردار کو سمجھنے میں بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے، کیونکہ عورت نسلوں کے کردار کی تشکیل میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ایک عورت جب ماں بنتی ہے تو وہ صرف ایک بچے کو جنم نہیں دیتی بلکہ آنے والی نسل کی شخصیت تشکیل دیتی ہے۔ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ اس کے الفاظ، رویے، اخلاق اور تربیت بچے کے ذہن و کردار پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور باکردار ماں ایسے افراد پروان چڑھا سکتی ہے جو مستقبل میں معاشرے اور ملک کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کریں۔
یہاں بانو قدسیہ کے ادب سے ایک اہم فکری پہلو سامنے آتا ہے: انسان کی تعمیر باہر سے کم اور اندر سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر محبت کے ساتھ تربیت، آزادی کے ساتھ ذمہ داری، اور علم کے ساتھ کردار کی بنیاد رکھی جائے تو یہی تربیت آگے چل کر معاشرے کے رویوں میں نظر آتی ہے۔ اس اعتبار سے عورت کا کردار محض گھریلو ذمہ داری نہیں بلکہ ایک خاموش قومی خدمت بھی ہے۔
عورت کا کردار صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں۔ ایک بیٹی کی حیثیت سے وہ خاندان میں محبت اور خوشی کا باعث بنتی ہے، ایک بہن کی حیثیت سے حوصلہ اور تعاون فراہم کرتی ہے، ایک بیوی کی حیثیت سے زندگی کے سفر میں شریکِ حیات کا ساتھ دیتی ہے، اور ایک ماں کی حیثیت سے نسلوں کی تربیت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم، طب، تحقیق، کاروبار، سماجی خدمت، انتظامی امور اور دیگر شعبوں میں خواتین اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
لیکن عورت کی حقیقی طاقت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کتنے کام کر سکتی ہے؛ اس کی اصل طاقت اس کردار اور شعور میں ہے جس کے ذریعے وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیوں پر اثر ڈالتی ہے۔ ایک عورت اپنے گھر میں جس تہذیب، گفتگو، برداشت، نظم و ضبط اور اخلاق کو فروغ دیتی ہے، وہی خصوصیات بچوں کے ذریعے معاشرے تک پہنچتی ہیں۔
قوم کی تعمیر صرف بڑی عمارتوں، سڑکوں اور صنعتی منصوبوں سے نہیں ہوتی؛ اصل قومی ترقی انسان کی تعمیر سے ہوتی ہے۔ اگر نسلوں میں علم، اخلاق، ذمہ داری، دیانت، محنت اور انسانیت کے جذبات پیدا کیے جائیں تو ایک مضبوط معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ اور اس کردار میں عورت کو مرکزی مقام حاصل ہے۔
بانو قدسیہ کے ہاں رشتے صرف سماجی بندھن نہیں بلکہ انسان کے کردار کو پرکھنے کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔ ان کے ادب کے فکری تناظر میں یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی میں محبت، قربانی، وفا، خود احتسابی اور ذمہ داری کی بڑی اہمیت ہے۔ یہی اقدار اگر عورت کی تربیت اور اس کے ذریعے آنے والی نسلوں کی تربیت میں شامل ہوں تو گھر محض رہنے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ کردار سازی کا ادارہ بن جاتا ہے۔
اسلام نے بھی عورت کو عزت، وقار اور حقوق عطا کیے ہیں۔ ایک مسلمان عورت کے لیے اپنی اولاد کی اچھی تربیت، علم حاصل کرنا، اخلاق و کردار کو سنوارنا اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ اسی طرح معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو عزت، تحفظ، تعلیم اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔
عورت کو تعلیم دینا دراصل صرف ایک فرد کو تعلیم دینا نہیں۔ ایک تعلیم یافتہ عورت اپنی معلومات، تجربات اور شعور کو اپنے گھر اور معاشرے تک منتقل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کی تعلیم کسی بھی ترقی پسند معاشرے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔
آج کے دور میں عورت کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے واقف ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ اپنی اخلاقی، تہذیبی اور خاندانی اقدار کو بھی مضبوطی سے تھامے رکھنا ضروری ہے۔ جدیدیت کا مطلب اپنی شناخت اور اقدار کو بھلا دینا نہیں، بلکہ علم اور ترقی کو اچھے کردار اور ذمہ داری کے ساتھ اختیار کرنا ہے۔
ایک باشعور عورت اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھاتی کہ کامیاب کیسے ہونا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ کامیابی کے بعد اچھا انسان کیسے رہنا ہے۔ وہ انہیں صرف مقابلے کا سبق نہیں دیتی بلکہ برداشت، احترام، دیانت اور دوسروں کے حقوق کا شعور بھی دیتی ہے۔
اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو ایک خاندان تعلیم یافتہ ہوگا؛ اگر وہ باکردار ہوگی تو ایک نسل باکردار ہوگی؛ اور اگر وہ باشعور ہوگی تو آنے والی نسلیں بھی شعور اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔
اس لیے عورت کو کمزور سمجھنا دراصل قوم کی اپنی طاقت کو کم سمجھنا ہے۔ عورت کو عزت، تعلیم، تربیت اور مواقع دینا صرف خواتین کی حمایت نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
آج ہمیں ایسی خواتین کی ضرورت ہے جو علم کے ساتھ کردار، کامیابی کے ساتھ عاجزی، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور ترقی کے ساتھ اپنی اقدار کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔ ہمیں ایسی ماؤں کی ضرورت ہے جو بچوں کو صرف دنیا میں آگے بڑھنے کا ہنر نہ دیں بلکہ انہیں انسانیت، اخلاق اور ذمہ داری کا شعور بھی دیں۔
کیونکہ قوموں کا مستقبل صرف پارلیمنٹ، دفاتر، یونیورسٹیوں اور صنعتوں میں نہیں بنتا؛ اس کی بنیاد ان گھروں میں رکھی جاتی ہے جہاں ایک ماں اپنے بچے کے دل و دماغ میں زندگی کے پہلے اصول لکھ رہی ہوتی ہے۔
جب عورت سنورتی ہے تو گھر سنورتا ہے، جب گھر سنورتا ہے تو معاشرہ سنورتا ہے، اور جب معاشرہ سنورتا ہے تو قوم کا مستقبل سنورتا ہے۔
اسی لیے عورت کو محض معاشرے کا ایک کردار نہیں بلکہ قوم کی معمار کہنا زیادہ درست ہے۔

